Category Archives: اردو کالمز ذیر آسمان

قونیہ: رُومی اور شمس کا شہرِمحبت

قونیہ: رُومی اور شمس کا شہرِمحبت

ترکی کاشہرقونیہ استنبول سے بالکل مختلف ہے۔ اس کوصوفیاکاشہرکہاجاسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہ رُومی کا شہر ہے۔ ہمارا ہوٹل ُرومی کے مسکن سے زیادہ دور نہیں۔ کمرے میں سامان رکھ کر میں پیدل ہی رومی کے مزار کی طرف چل پڑتا ہوں جس کا گنبد مجھے دور سے نظر آ رہا ہے ،اب سہہ پہر شام میں بدل رہی ہے اور ہوامیں خنکی گھل رہی ہے۔ رومی کے مزار پر اس کے چاہنے والے جوق درجوق آرہے ہیں۔ مزار کے اندر روحانیت کی خوشبو مہک رہی ہے

استنبول:یہ رشتہ و پیوند

استنبول:یہ رشتہ و پیوند

ترکی کاشہراستنبول۔ باسفورس کے کنارے ہوٹل کے کمرے کاخوبصورت ٹیرس۔ ٹیرس سے اُس طرف خوش نمامنظروں کاایک جمگھٹا۔ دائیں بائیں اورسامنے حدنظرتک پانی کاپھیلائو اورسطح آب پرتیرتے ہوئے رنگ برنگ بجرے اورکشتیاں۔ٹیرس سے بائیںطرف نگاہ کریں توایک طویل پل دکھائی دیتاہے جوایشیا اور یورپ کوملاتا ہے پل کیاہے محراب کی صورت ایک قوسِ قزح ہے جس نے مشرق اور مغرب کے کناروں کو اپنے رنگوں میں باندھ رکھاہے یہاںسے دیکھیں تویورپی حصے میں واقع بلندیوںپر واقع عمارتوں پر دھوپ کااُجلاپن ہے ۔ پُل کے اِس طرف ایشیائی حصے میںدھوپ کجلائی ہوئی ہے۔

شکیل عادل زادہ: اے عشقِ جنوں پیشہ

شکیل عادل زادہ: اے عشقِ جنوں پیشہ

کراچی میں ساحلِ سمندر پر واقع ایک معروف ریستوران ۔ رات کاوقت، ٹھنڈی ہوا اور سمندر کی ڈوبتی ابھرتی لہریں۔پانی کی سطح کوچھُوکر ہوا میںبلندہوتے بگلے اوران کے سفیدپروں کواُجالتی ہوئی روشنیاں۔ ایک خواب کاسامنظر۔ لکڑی کے بنچوں پر آمنے سامنے بیٹھے میں اورشکیل عادل زادہ ۔وہی سب رنگ کے عشق میںگرفتار کرنے والا شکیل عادل زادہ ۔میں نے سمندر پر نگاہ کی ایک پرندہ اپنی لہک میںباقی پرندوں سے بہت آگے بہت اوپر اڑتاچلاجارہاتھا۔

یعقوب کایوسف: بھٹکا ہے دل ہوا کی طرح منزلوں سے دُور

یعقوب کایوسف: بھٹکا ہے دل ہوا کی طرح منزلوں سے دُور

مسٹربُکس ، اسلام آباد میںکتابوں کی ایک ایسی دکان جہاں کتابوں سے محبت کرنے والوں کوکتابوں کے ہمراہ یوسف بھائی کی دلدار مسکراہٹ بھی میسر تھی۔ یوسف بھائی اور مسٹر بُکس ہمزاد تھے جو ایک دوسرے کے لیے جیتے اور ایک دوسرے پر مرتے تھے یوسف بھائی کیلئے مسٹر بکس ایک ایسی تصویرتھی جس کے نین نقش وہ تمام عمر سنوارتے رہے۔دونوں نے جیسے اکٹھے جینے مرنے کی قسم کھائی تھی لیکن وہ جوعبیداللہ علیم نے کہاہے:

گورڈن کالج: آئینۂ آواز میں چمکا کوئی منظر

گورڈن کالج: آئینۂ آواز میں چمکا کوئی منظر

کبھی کبھی یوں ہی جی چاہتا ہے‘ پرانے راستوں کا سفر پھر سے کیا جائے۔ یہ خواہش دراصل گزرے دنوں کو پھر سے بِتانے کی آرزوہوتی ہے۔ کسی پرانے دوست سے ملنا، کسی پرانی کتاب کا مطالعہ، کوئی پرانی فلم دیکھنا، کسی پرانے دیار میں جانا‘ دراصل ان لمحوں کو زندہ کرنے کی تمنا ہوتی ہے‘ جو ریت کی صورت ہماری مٹھی سے پھسل چکے ہوتے ہیں۔