خوابِ خوش رنگ میں کُھلتا دریچہ

خوابِ خوش رنگ میں کُھلتا دریچہ

کبھی کبھی کوئی ایک آواز، کوئی ایک تصویر، کوئی ایک جملہ ایک ایسے دریچے کا پٹ کھول دیتا ہے جس کے دوسری طرف بیتے دنوں کا چمن لہلاتا نظر آتا ہے اور ہمیں جان کر حیرت ہوتی ہے کہ کبھی ہم بھی اس باغِ خوش رنگ کا ایک منظر تھے۔
اس روز بھی ایسا ہی ہوا۔

جی ایچ کیو کے کانفرنس ہال میں ملک بھر کی جامعات کے سربراہ انتہا پسندی کے حوالے سے ہونے والی ایک کانفرنس میں شریک تھے جس سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا۔ اسی کانفرنس میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل عاصم منیر صاحب نے بھی سامعین کو سکیورٹی کے حوالے سے ایک جامع بریفنگ دی۔ بریفنگ کے آخر میں انہوں نے بتایا کہ وہ تعلیمی اداروں کی اہمیت اور اساتذہ کے منصب سے آگاہ ہیں کیونکہ ان کے والد بھی ایک استاد تھے۔

انہیں شایدمعلوم نہیںتھا کہ ان کے والد محترم سرور منیرصاحب کا ایک شاگرد بھی یہاں بیٹھا ہوا ہے۔ اس جملے نے ماضی کے باغِ خوش رنگ میں کھلنے والے دریچے کے پٹ وا کر دیئے۔ بیتے ہوئے دن آنکھیں جھپکتے ہوئے جاگ اٹھے۔ دریچے کے اُس طرف مجھے اپنے سکول کی عمارت نظر آ رہی ہے۔ مین گیٹ سے بچے اندر جا رہے ہیں۔ میں بھی ان بچوں میں شامل ہوں۔ مین گیٹ سے اندر داخل ہوں تو بائیں طرف سائیکل سٹینڈ نظر آتا ہے اور اس سے آگے ایک وسیع میدان جہاں فٹ بال، ہاکی اور کرکٹ کے میچ ہوتے تھے۔ تفریح (Break Time) میں ہم اس گرائونڈ میں کھیلتے۔ باسکٹ بال کورٹ کے پاس سکول کینٹین تھی لیکن ہم سکول کے باہر کھڑی ریڑھیوں سے چیزیں خریدتے۔ خریدنے کے لیے چیزیں ہی کیا ہوتی تھیں۔ کٹی ہوئی مولیاں، شکر قندیاں یا کھیرے جن پر چاٹ مصالحہ چھڑکا ہوتا۔ اس کے علاوہ مکئی کے دانے یا ریت میں دبے بھٹے ہوتے‘ جن پر نمک مرچ اور لیموں لگا کر کھایا جاتا۔
یادوں کے دریچے کے اِس طرف کھڑا میں سوچتا ہوںکہ کیسے کیسے اساتذہ تھے جن کے چہرے وقت کے غبار میں چھپ گئے، یہی چہرے ایک ایک کر کے روشن ہو رہے ہیں۔ انہیں میں سے ایک چہرہ محترم سرور منیر صاحب کا ہے۔ وہ ہمیں 9th A میں ریاضی پڑھاتے تھے۔ بڑی بڑی خوبصورت روشن آنکھیں، سفید کپڑوں پر سیاہ شیروانی زیب تن کرتے۔ اسی سال ہمارے نصاب میں Set theoryمتعارف ہوئی تھی، سرور منیر صاحب نے بہت اچھے طریقے سے ہمیںSet theoryکے تصور (Concept) سے روشناس کرایا۔ انہیں کی کلاس میں ہمیں Q.E.D (Quod Erat Demonstrandum)کے تصور سے آگاہی ملی جو ہمیں ہر سوال کے آخر میں لکھنا ہوتا۔ یہ لاطینی زبان کی اصطلاح تھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ ثبوت مکمل ہے۔
ہمارے اردو کے استاد فاروق علی تھے۔ کیا باغ و بہار شخصیت تھے۔ اردو زبان و ادب پر ان کی دسترس تھی، طلبہ میں شعر و ادب کے ذوق کی آبیاری میں ان کا بنیادی کردار تھا۔ ان کی کلاس صرف ٹیکسٹ بک تک محدود نہ ہوتی بلکہ بہت سے شاعروں اورادیبوں کا تذکرہ بھی ہوتا۔ میں جب سکول سے سر سید کالج پہنچا تو اتفاق سے وہ بھی کالج میں تعینات ہو گئے تھے یوں ایک طویل عرصے تک مجھے ان کا شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔
ہمیں سب سے زیادہ خوف انوار صاحب کی کلاس میں آتا وہ ہمارے فزکس کے استاد تھے۔ ہماری کلاس کا شاید ہی کوئی طالبِ علم اُن کی چھڑی کی ضربوں سے محفوظ رہا ہو۔ ان کی کلاس میں پورا زور سوالات کے جوابات زبانی یاد کرنے پر ہوتا۔ اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کتنے ہی بچے سکول میںسزا کے تصور سے ہی تعلیم سے بیزار ہو جاتے ہیں اور پھر کبھی سکول کا رُخ نہیںکرتے۔ ہمیں سب سے زیادہ مزہ بشیر صاحب کی کلاس میں آتا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ نوجوان تھے اورکلاس میں ہمارے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان کی کلاس کا انتظار کرتے۔ ہمارے سکول کے پرنسپل انصاری صاحب تھے جو ایک طویل عرصہ تک اس عہدے پرفائز رہے اور جن کی سرکردگی میں سکول نے تعلیم اور کھیلوں کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ وائس پرنسپل صدیقی صاحب تھے سردیاں ہوں یا گرمیاں، وہ شیروانی زیب تن کرتے۔ صدیقی صاحب بہت سنجیدہ استاد تھے۔ انہیں شاذ ہی کسی نے ہنستے دیکھا ہو۔ وفات سے پہلے انہوں نے اپنی تمام جائیداد ایک یتیم خانے کے نام کر دی تھی۔
ہمارے سکول کا نام سی بی ٹیکنیکل ہائی سکول تھا۔ جہاں عام تعلیم کے ساتھ تکنیکی مہارتیں بھی نصاب کاحصہ تھیں۔ ہمارے سکول میں تین جدید لیبز (Labs) تھیں۔ ان میں ووڈ ورک (Wood work) الیکٹریسٹی ورک (Electricity work) اور میٹل ورک (Metal work) کی لیبارٹریاں شامل تھیں۔ سکول میں کھیلوں کا خاص اہتمام تھا۔ فٹ بال اور ہاکی کے وسیع گرائونڈز تھے۔ اسی طرح والی بال کے لئے علیحدہ کورٹ تھا۔ ہماری ہاکی کی ٹیم انٹر سکول ٹورنامنٹ میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتی۔ ہمارا سکول ایک سرکاری سکول تھا لیکن اس میں اس وقت کی جدید سہولتیں موجود تھیں۔ بڑے روشن اور ہوا دار کلاس رومز، کھیلوں کے وسیع میدان، لیبارٹریز، لائبریری، بہت بڑا ہال اور جدید پبلک ایڈریس سسٹم۔ پرنسپل کے کمرے سے کوئی بھی اعلان ہوتا تو ہرکمرے میں سنائی دیتا۔ یہ ان دنوں کاذکر ہے جب سرکاری سکولوں میں امیروں اور غریبوں کے بچے ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ جب سکولوںمیں پڑھائی کے علاوہ بچوں کی جسمانی نشو و نما کے لئے کھیلوں پر خاص توجہ دی جاتی تھی، جب تعلیم کاروبار نہیں بنی تھی اور جب سکول کوٹھیوں میں منتقل نہیںہوئے تھے۔
ہر صبح کا آغاز اسمبلی سے ہوتا جہاں تلاوت اور درس ہوتا، قومی ترانہ پڑھا جاتا اور ایکسرسائز ہوتی۔ آج کل کے بچوں کو یہ ساری باتیں غیر ضروری محسوس ہوں گی کیونکہ آج کل بچوں، والدین اور اساتذہ کا مشترکہ مقصد A+ گریڈ کا حصول ہے۔ A+ گریڈ کی تلاش میں تربیت کاحصہ راستے کی گرد میں کہیں کھوگیا ہے۔
ہمارے سکول کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ اس کے پہلے ہیڈ ماسٹر اردو کے معروف ادیب اور شاعر تلوک چند محروم تھے۔ تلوک چند میانوالی کے ایک سکول میں پڑھاتے تھے، 1933ء میں ان کے بیٹے جگن ناتھ آزاد کو پڑھائی کے سلسلے میں راولپنڈی میں واقع گارڈن کالج آنا پڑا۔ تلوک چند محروم نے اپنا ٹرانسفر بھی راولپنڈی کرا لیا اور یوں سی بی ٹیکنیکل ہائی سکول کے پہلے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔
دسویں جماعت میں مجھے دوستوں کے ہمراہ لاہورکا دورہ یاد ہے جب ہم سب اپنے اساتذہ کے ہمراہ ریل کے ذریعے لاہورگئے۔ جہاں ہم نے کئی تاریخی عمارات، شاہی قلعہ اور شاہی مسجد دیکھی۔ پھر علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، شام کو کچھ دوستوں نے ”دوستی‘‘ فلم دیکھی، اس دورے سے ہم سب بہت لطف اندوزہوئے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہمارے سکول میں جادو کا تماشا (Magic Show) ہوا تھا، جسے ہم سب بچوں نے بڑے شوق سے دیکھا تھا۔ جب جادوگر نے اپنے ہیٹ سے کبوترنکالاتھا توہم سب حیران رہ گئے تھے پھرجادوگر نے انگلی سے اپنی انگوٹھی نکالی ہوا میں اچھالی اسے کیچ کیا اور مٹھی میں بند کر لیا پھر اس نے مٹھی کھولی تو وہ خالی تھی۔ انگوٹھی کہاں چلی گئی تھی؟ اب جادوگر نے ایک خربوزہ میز پر رکھا اور اسے چھری سے کاٹا۔ خربوزہ دو حصوں میں کٹ گیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ گم شدہ انگوٹھی کٹے ہوئے خربوزے سے نکل آئی۔ ہم سب بچے حیرت زدہ رہ گئے انگوٹھی ابھی تو ہمارے سامنے تھی، دیکھتے ہی دیکھتے یہ کہاں چلی گئی اور پھریہ واپس کیسے آ گئی۔ میرادل چاہ رہاتھا کہ یہ جادو کا کھیل کبھی ختم نہ ہو۔ اسی دوران سکول میں چھٹی کی گھنٹی بجی اور ہم اپنے بیگ سمیٹتے کلاس سے باہر دوڑے۔ سکول کی گھنٹی کی آواز مجھے لمحہ موجود میں لے آئی دریچے کے اِس طرف کتنے ہی سالوں کی سفیدی میرے بالوںمیں اتر آئی ہے، لیکن مجھے یوں لگتا ہے میں اب بھی جادو نگری میں سانس لے رہا ہوں۔ ابھی تو میرا بچپن یہیں تھا، جادوگر کی انگوٹھی کی طرح کہاں گم ہو گئی اور پھر اچانک بیتے ہوئے دن کیسے جاگ اٹھے۔ کبھی کبھی کوئی ایک آواز، کوئی ایک تصویر، کوئی ایک جملہ ایک ایسے دریچے کا پٹ کھول دیتا ہے جس کے دوسری طرف بیتے دنوں کا چمن لہلاتا نظر آتا ہے اور ہمیں جان کرحیرت ہوتی ہے کہ کبھی ہم بھی اس باغِ خوش رنگ کا ایک منظر تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *