کاکوری کے سرفروش:اے ایام کی مٹتی یاد گواہی دے

کاکوری کے سرفروش:اے ایام کی مٹتی یاد گواہی دے

وہ چند نوجوانوں کاگروہ تھا، جو عمرکے اس حصے میں تھے جہاں ہرچیز خوبصورت نظرآتی ہے۔ ان کی آنکھوں میں قوسِ قزح جیسے خواب ہلکورے لیتے تھے۔ ان خوابوں میں ایک خواب جوسب سے روشن تھا اور جواُن

کے لہو میں طغیانیاں پیداکررہاتھا،وہ انگریزوں کے تسلط سے وطن کوآزاد کرانے کاخواب تھا۔ اس خواب نے ان کی زندگیوں کوایک محور پراکٹھاکردیاتھا اورانہوں نے طے کرلیاتھا کہ اس خواب کی تعبیر کے لیے وہ اپنی جان بھی دے دیںگے۔

ہندوستان میںبرطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ہے۔مزاحمت کے اس عمل میں ہندوستان میں بسنے والے مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حصہ لیا۔بدیسی حکومت کے خلاف مزاحمت کا نکتۂ عروج 1857 کی جنگِ آزادی تھی۔جس میں آزادی کے متوالوں کی ایک بڑی تعداد جوانمردی سے لڑتے ہوئے موت کی وادی میں اتر گئی۔ کتنے ہی نوجوانوں کو سرِ عام پھانسی پر لٹکایا گیا۔بہت سے سرپھروں کو کالا پانی بھیج دیا گیا۔ ان سب حکومتی اقدامات کا ایک ہی مقصد تھا کہ آئندہ رعایا میںکسی کو سر اٹھانے کی جرأت نہ ہو ۔لیکن حریت کی چنگاری بجھی نہیں‘ سلگتی رہی۔یوں1857کی جنگِ آزادی کے بعدبھی مزاحمت کاسلسلہ جاری رہا۔کاکوری کاواقعہ بھی آزادی کی جدوجہد کاایک روشن سنگِ میل ہے جب9اگست 1925کو نوجوان انقلابیوں نے کامیابی سے برطانوی راج کوچیلنج کیا۔کاکوری کے معرکے کوسمجھنے کے لیے اس کا پس ِمنظر جاننا ضروری ہے۔
یہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد کادور ہے۔ سلطنت ِعثمانیہ آخری ہچکیاں لے رہی تھی، ،جلیانوالہ باغ کے اجتماعی قتلِ عام کی گونج فضائوں میں تھی اور ظالمانہ رولٹ ایکٹ پر ہندوستانی غیظ وغضب کی کیفیت میںمبتلاتھے۔ یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی تھی کہ قومی سطح پر ایک ایسی تحریک چلائی جائے جولوگوں کوبرطانوی حکومت کیخلاف متحرک کرسکے۔
اس سیاسی صورتحال کے تناظرمیں دواہم تحریکوں،تحریک خلافت اورتحریکِ عدم تعاون کاآغازہوا۔ تحریکِ خلافت مسلمانوں نے شروع کی جس کابنیادی مقصد خلافتِ عثمانیہ کی حفاظت تھا۔ اس تحریک کے قائدین میں مولانا محمدعلی جوہر، مولاناشوکت علی اورحکیم اجمل نمایاں تھے۔ دوسری اہم تحریک عدم تعاون کی تھی جس کے رہنما گاندھی تھے۔ وقت کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے مسلمانوں اورہندوئوں نے مل کرکام کرنے کافیصلہ کیا اوردونوں تحریکوں کوکامیاب بنانے کے لیے باہمی تعاون کااعادہ بھی کیا، گاندھی نے تحریکِ خلافت کے حق میں آوازبلندکی اورمسلمانوں نے گاندھی کی عدم تعاون کی تحریک کی بھرپور حمایت کااعلان کیا۔
تحریکِ عدم تعاون کے تحت تمام ہندوستانیوں سے کہا گیاکہ وہ سرکاری نوکریاں چھوڑدیں۔ٹیکس ادا نہ کریں، سرکاری تعلیمی ادارے چھوڑدیں، بدیسی مصنوعات کابائیکاٹ کرکے دیسی مصنوعات استعمال کریں۔ یہ مطالبات ہندوستانیوں کی اجتماعی آواز تھی جس نے ہندوستان کوبھرپور اندازمیں متحرک کردیا۔ علاقائی تعصبات سے بالاترہوکرتمام طبقات نے اس پکارپرلبیک کہا۔
اس تحریک سے تاجِ برطانیہ کاسنگھاسن ڈولنے لگاتھا، حتیٰ کہ4فروری1922کوچوری چورا کاواقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ میںمقامی پولیس اورمظاہرین کے درمیان فساد ہوا،جس کے نتیجے میں بیس سے زائد پولیس والے مارے گئے۔ گاندھی کامنصوبہ تھا کہ برطانیہ کے خلاف تحمل مزاجی سے جدوجہد کی جائے لیکن اس پُرتشدد واقعے سے پُرامن جدوجہد کا منصوبہ بُری طرح متاثر ہوا اورگاندھی نے تحریکِ عدم تعاون کے خاتمے کااعلان کردیا۔
گاندھی کے اس اعلان سے عوام اورخصوصاً نوجوانوں کوبہت مایوسی ہوئی کیونکہ وہ کسی بھی قیمت پراس تحریک کوختم کرنے کے خواہاں نہیں تھے۔ نوجوانوں کی ایک کثیرتعداد اکٹھی ہوئی اورانہوں نے طاقت کے بل بوتے پراپنی جدوجہد کو مزید جارحانہ کرنے کافیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں1924 کوہندوستان ری پبلیکن ایسوسی ایشن (HRA)قائم ہوئی۔اس ایسوسی ایشن کے بانی اراکین میںاشفاق اللہ خان، رام پرسادبسمل، جگدیش چیٹرجی، چندر شیکھر آزاد اورسچندرناتھ سانیال شامل تھے۔ رام پرساد بسمل کاتعلق آریاسماج سے تھا اوراشفاق اللہ خان ایک پکے مسلمان تھے لیکن دونوں میں دوستی کا گہرابندھن تھا۔ دونوں کاتعلق شاہ جہان پور سے تھا، دونوں شاعرتھے، دونوں جوان تھے اوران کے دلوں میں حکمرانوں کی آزادی کے جذبات موجزن تھے۔یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں تحریکِ عدم تعاون کے خاتمے کے اعلان سے بہت اذیت پہنچی تھی۔ ان کے دلوں کی ایک ہی آرزو تھی کہ جلدازجلدہندوستان سے برطانیوں کاانخلا ہو۔
آزادی کے عمل کوتیزتر کرنے کے لیے اس نئی قائم شدہ تنظیم (HRA) کوانسانی اورمالی ذرائع کی ضرورت تھی جس کے لیے ایک بہت بڑا بجٹ درکارتھا۔ مطلوبہ رقم کے حصول کیلئے انہوں نے اُس ٹرین کولوٹنے کا فیصلہ کیا جس میں سرکاری خزانہ لایاجاتاتھا۔یہ فیصلہ آسان نہیںتھا۔ ٹرین کولوٹنے کے نتائج بہت خطرناک ہوسکتے تھے لیکن اشفاق اللہ خان اوربسمل اپنے دوستوں کے ہمراہ اس مشکل مشن کے لیے تیار تھے۔یہ9اگست1925کی بات ہے جب اشفاق اللہ خان،بسمل اوران کے ساتھی اس ٹرین میںسوارہوئے جس میں رقم موجود تھی۔ جونہی ٹرین لکھنؤ کے ایک چھوٹے سے گائوں کاکوری پہنچی انہوںنے زنجیر کھینچی اورٹرین رک گئی۔ انہوںنے محافظ کودبوچا اورسرکاری خزانے کاصندوق اپنے قبضے میں لے لیا۔آہنی صندوق کو ایک کلہاڑے سے توڑکر کھولاگیا اوررقم تین چادروں میں باندھی گئی۔ ان کا یہی خیال تھا کہ یہ رقم بدیسی حکمرانوں کیخلاف آزادی کی جنگ میں ان کی مددگارہوگی۔ منصوبے کی کامیاب تکمیل کے بعدیہ تینوں ساتھی منظرسے غائب ہوگئے۔
اس واقعے نے پورے ملک میں ہلچل مچادی۔ یہ واقعہ حکومت کے لیے بہت اہم تھا کیونکہ اس رقم نے تنظیم کے ڈھانچے اوراسلحہ کے حصول کے لیے مالی وسائل فراہم کردیئے تھے۔اس واقعہ کی اہمیت کاایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے برطانوی راج کی جابرانہ حکومت کواس وقت چیلنج کیاجب ملک میں خوف وہراس کی فضا تھی۔اس واقعے کی بدولت HRA ملکی سطح پرمتعارف ہوگئی اور لوگوں نے جوانوں کی قائم کردہ اس تنظیم کا سنجیدگی سے نوٹس لیا۔
پولیس پر انگریزی حکومت کا سخت دبائوتھا کہ وہ ان انقلابیوں کوپکڑے لیکن پولیس فوری طورپر کاکوری ٹرین چوری میں ملوث کسی شخص کو نہ پکڑ سکی۔ رام پرسادبسمل کی گرفتاری 26 ستمبر 1925 کو عمل میں آئی ؛تاہم اشفاق اللہ خان پھربھی پولیس کی دسترس سے باہررہا۔ وہ پہلے بنارس گیاوہاں سے بہار چلاگیا جہاں اس نے ایک انجینئرنگ کمپنی میں بطورکلرک ملازمت شروع کردی۔ کچھ عرصہ یہاں کام کرنے کے بعد وہ پھردہلی چلاگیا جہاں اس نے ملک چھوڑنے کامنصوبہ بنایا۔ یہیں اس کی ملاقات ایک قریبی دوست سے ہوئی جس نے انتہائی رازداری سے پولیس کواس کی اقامت گاہ کا بتا دیا اور اسی اطلاع کی بنیاد پر بسمل کی گرفتاری کے دس ماہ بعداشفاق اللہ خان کوبھی گرفتارکرلیاگیا۔
کاکوری کے واقعے کی عدالتی سماعت تقریباً دوسال تک چلتی رہی۔ اشفاق اللہ خان ،بسمل اوران کے ساتھیوں کوبچانے کے لیے ایک دفاعی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ پریوی کونسل (Privy Council)کو بھی اپیلیں کی گئیں لیکن برطانوی حکومت ان انقلابیوں کو سزائے موت دے کر نشانِ عبرت بنانا چاہتی تھی۔ دسمبر1927 میںاشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل، روشن سنگھ راجندر لہری کوپھانسی دے دی گئی۔ وہ جن کی آنکھوں میں قوسِ قزح جیسے خواب ہلکورے لیتے تھے اور جنہیں آزادی کے روشن خواب نے ایک محور پراکٹھا کردیا تھا، خوشی خوشی تختۂ دار پر چڑھ گئے ان کے چہروں پراطمینان اورہونٹوں پرتبسم تھا۔ جیسے انہیں پورا یقین ہوکہ ان کی قربانی مزاحمت کے چراغ کی لو اور اونچی کردے گی جس کے نتیجے میں آزادی کی منزل اورقریب آجائے گی۔کہتے ہیں مرنے کے بعد بھی ان کی آنکھوں میں خوابوں کے دھنک رنگ رقصاں تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *